ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef

Regular price $ 250.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef

اس کا انتساب

جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے ، آسٹریا کی جدید شاعری کا یہ پہلا انتخاب ہے، جس کو اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے شائقین ادب بالخصوص شعرائے کرام ذوق و شوق سے ایک ایسے ملک کی شاعری کا مطالعہ کریں گے، جس کے بارے میں ہماری معلومات محدود ہیں اور یوں اردو کے شعری ادب میں مزید وسعتیں پیدا کی جاسکیں گی۔

منٹو کا افسانہ "ٹھنڈا گوشت" تو آپ نے پڑھا ہو گا، اگر نہیں تو انٹرنیٹ سے سرچ کر کے پڑھ لیں

قائداعظم کا خطاب محمد علی جناح کے نام کے ساتھ استعمال ہونا اگرچہ 1937-38ء میں عام ہوگیا تھا لیکن جہاں تک لیگ کی سرکاری دستاویزات کا تعلق ہے، ان میں اس خطاب کو کئی برس بعد استعمال کیا گیا۔ سب سے پہلے لیگ کی دستاویزات میں یہ خطاب مسلم لیگ کونسل کی اُس قرارداد میں استعمال ہوا تھا جو 7مارچ 1943ء کو دہلی کے اجلاس میں منظور کی گئی اور جس میں لیگ کے ازسر نو صدر کی حیثیت سے محمد علی جناح کے انتخاب کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ بعد ازاں محمد علی جناح کے نام کے ساتھ اس خطاب کے استعمال کی اہمیت ان کی اعلیٰ ترین قیادت اور ہندوستان کی سیاست میں ان کے مؤثر ترین کردار کی روشنی میں پوری دنیا پر واضح ہوتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ جون 1947ء میں اسلامیانِ ہند کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا اور وہ اس ملکِ خداداد ’’پاکستان‘‘ کے بانی اور پہلے گورنر جنرل قرار پائے۔ ان کی اسی حیرت انگیز کامیابی، بے لوث خدمتِ قومی اور شاندار قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کے باقاعدہ قائم ہونے سے صرف دو دن قبل ایک قرارداد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے صدر اور پاکستان کے نامزد گورنر جنرل مسٹر محمد علی جناح کو تمام سرکاری فرامین، دستاویزات، خطوط اور مراسلات میں 15اگست 1947ء سے ’’قائداعظم محمد علی جناح‘‘ لکھا جائے گا۔ ایک رہنما کی زندگی میں اس کی قوم کا یہ اعتراف بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کم ہی ایسے رہنما ہوں گے جن کو ان کی قوم نے متفقہ طور پر ایسی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا ہو اور پھر اس کا کھلے دل سے اعتراف بھی کیا ہو۔ اگرچہ قائداعظم محمد علی جناح ہر طرح کے القاب و خطابات سے بے نیاز تھے۔ وہ اپنی عوامی زندگی کے تمام عرصے میں ہمیشہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی بھی عہدہ، منصب، خطاب یا لقب قبول کرنے سے گریزاں رہے، حتیٰ کہ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری تک لینا پسند نہ کی، حالاں کہ وہ اس یونیورسٹی کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد کے نام 4 اکتوبر1942ء کو اپنے خط میں لکھا: ’’بلاشبہ میں اس جذبے کی بے حد قدرکرتا ہوں جس کے ہاتھوں مجبور ہوکر مسلم یونیورسٹی کے کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے، تاہم میں بادلِ نخواستہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اب تک محض ’’مسٹر جناح‘‘ کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا رہا ہوں اور یہ توقع کرتا ہوں کہ میں صرف ’’مسٹر جناح‘‘ کی حیثیت سے ہی انتقال کروں گا۔ میں ہر قسم کے خطاب، لقب اور اعزاز کا مخالف ہوں اور میرے لیے یہ زیادہ خوشی کی بات ہوگی کہ میرے نام کے ساتھ کوئی سابقہ نہ لگایا جائے‘‘۔

and their practical applications

ناول کے دو حصے ہیں۔ اس کا انتہائی اہم ترین حصہ دوسرا ہے جب میرسو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ سزائے موت سے پہلے کورٹ کے چکر اور جیل کے روز و شب۔ اور کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنی موت کا انتظار کرتے رہنا اور پھر پادری سے گفتگو کرنا۔۔۔۔یہ ناول کا کلائیمیکس ہے مگر اس تک جانے کیلئے آپکو کتاب کا پہلا حصہ پڑھنا ہوگا جو کہ ہر طرح سے دوسرے حصے کی بنیاد ہے۔

بلوچستان کے معدنیات کے حوالے سے کتاب میں شامل حصے قابل رشک ہیں جہاں کرومائیٹ، بروناہیٹ، سنگ مر مر، سونا، چاندی، گیس، لوہا اور گندھک وغیرہ کے بڑے بڑے ذخائر کا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برے پیمانے پر موجودگی ذکر کیا گیا ہے۔

The Colonizer and the Colonized

چینی جو میٹھی نہ تھی  | Safdar Nawaid Zaidi | Cheni Jo Mithi Na Thi

لیون ٹراٹسکی کی کتب ”انقلابِ مسلسل“ اور ”نتائج اور تناظر“ کی پہلی دفعہ اردو زبان میں اشاعت بلاشبہ ایک غیر معمولی کامیابی اور انقلابی تحریک کے لیے ایک حقیقی سنگ میل ہے۔ بلاشبہ ان کا شمار مارکسزم کی کلاسیکی تصانیف میں ہوتا ہے جو آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاریخ کی غیر لچکدار مرحلہ واریت پر مبنی میکانکی نقطہ نظر کو رد کرنے والے ٹراٹسکی کے نظریہ انقلاب مسلسل کا لازمی جوہر ہمیں پہلے سے ہی مارکس اور اینگلز کی تحریروں میں ملتا ہے۔

پروفیسر اعجاز قریشی کی لکھی ہوئی بہترین کتاب

اسلام اور سوشلزم

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef ships.

Need Help?
Questions about ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for ساندل بار | شاہد رضوان | Sandal Bar | Shahid Rizwan Ibn Haneef in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>